مسکنا[2]

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - اپنی جگہ سے ہلنا، حرکت کرنا، جنبش کرنا۔ "بچہ چاہے روتے روتے مار جائے مسکتی تک نہیں"      ( ١٩٣٥ء، دودھ قیمت، ١٦٧ ) ٢ - بدن لچکنا، ناچنے میں بدن کو حرکت دینا۔ "ہرگت کے درمیان سولہ جگہ سے اعضاء جسم مسکتہ جاویں اسی کو سولہ کلا باندھن ی گت کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، تحفۂ موسیقی، ٨:٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل ہے اردو میں اپنے اصلی معنوں اور حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل مستعمل ہے۔ ١٨٩٢ء کو "خدائی فوجدار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اپنی جگہ سے ہلنا، حرکت کرنا، جنبش کرنا۔ "بچہ چاہے روتے روتے مار جائے مسکتی تک نہیں"      ( ١٩٣٥ء، دودھ قیمت، ١٦٧ ) ٢ - بدن لچکنا، ناچنے میں بدن کو حرکت دینا۔ "ہرگت کے درمیان سولہ جگہ سے اعضاء جسم مسکتہ جاویں اسی کو سولہ کلا باندھن ی گت کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، تحفۂ موسیقی، ٨:٥ )